جگر دوز
معنی
١ - دل پر اثر کرنے والا، دل میں پیوست ہونے والا، کرب انگیز، تکلیف دہ۔ "ان غربیوں کی کیونکر بسر ہوئی یہ خیال ہی جگر دوز تھا۔" ( ١٩٣٥ء، دودھ کی قیمت، ٧٩ )
اشتقاق
فارسی زبان میں اسم 'جگر' کے ساتھ مصدر 'دوختن' سے مشتق صیغۂ امر 'دوز' بطور لاحقۂ فاعلی لگنے سے 'جگر دوز' بنا اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ ١٦٤٩ء میں "خاور نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - دل پر اثر کرنے والا، دل میں پیوست ہونے والا، کرب انگیز، تکلیف دہ۔ "ان غربیوں کی کیونکر بسر ہوئی یہ خیال ہی جگر دوز تھا۔" ( ١٩٣٥ء، دودھ کی قیمت، ٧٩ )